Moderate Islam: the formula

This article can change Pakistan from an extremist to a moderate nation and also perhaps the Muslim world I wish educated people support me in this reformation initiative.
 
جناب عمران خان اور ہر پاکستانی سے کچھ سیدھے سیدھے سوال
السلام علیکم
میں ایک عام پاکستانی اور عام مسلمان ہوں. میں آپ سب سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور شاید میں آپ کو ان سوالوں کے جواب خود ہی دے دو کیونکہ مجھے نہیں لگتا آپ ان سوالوں کو شاید سمجھ بھی پائیں گے؟
پہلا سوال کیا پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا؟
دوسرا سوال کیا پاکستان میں اسلامی نظام ہونا چاہیے؟
تیسرا سوال اسلامی نظام کیا ہوتا ہے اور کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں اسلامی نظام چل رہا ہے یا کبھی چلا ہے؟ میں آج کے دور کی بات کر رہا ہوں پندرہ سو سال پہلے کی نہیں۔ آج درجنوں مسلمان ملک ہیں کوئی ایک ایسا ملک جہاں اسلامی نظام چل رہا ہے؟
چوتھا سوال کیا یہ حکومت یا علماء کا کام ہے کے فتوے دیں کون مسلمان ہے اور کون نہیں؟ مثال کے طور پر قادیانیوں کا مسئلہ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق پر بھی فیصلہ کرنا؟
پانچواں سوال کیا اسلامی نظام کے اندر غیر مسلم یا لادینن اپنے طور طریقے سے رہ سکتے ہیں یا نہیں اور نام کے مسلمان اسلام کے برعکس زندگی گزار سکتے ہیں؟
چھٹا سوال اگر آپ کا جواب 4 اور 5 میں منفی ہے تو کیا اسلامی ریاست میں گناہ کرنا ناممکن ہے؟
ساتواں اور آخری سوال کیا اسلامی نظام اور ترقی مترادف ہیں؟
پہلے سوال کا جواب میں صاف صاف لکھ رہا ہوں، یہ سچ ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا ورنہ 25 کروڑ لوگ پاکستان میں نہ ہوتے۔ بلکہ انڈیا کا حصہ ہو تے اور اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت نا کرتے۔ لہذا یہ بات تو صاف ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے
دوسرے سوال کا جواب بھی بہت آسان ہے، ایک عام پاکستانی اسلامی نظام چاہتا ہے لیکن پڑھا لکھا پاکستان انگریزی پاکستان چاہتا ہے۔ کیونکہ غریب پاکستانی طاقت میں نہیں ہے اس لئے ریاست میں اسلام کا ہونا ناممکن ہے
تیسرے سوال کا جواب بالکل صاف ہے آج کی تاریخ میں مسلمان ممالک خلفائے راشدین کی مثال سے بہت دور ہیں۔ شاید جب امام مہدی کا اس دنیا میں ظہور ہوگا، جب اسلامی نظام کی بات ہوگی یا جب حضرت عیسی دنیا میں واپس تشریف لائیں گے، اس دن تک میرے خیال میں اسلامی نظام ایک نعرہ ہی رہے گا، جسکی عملی طور پر کوئی حیثیت نہ ہے نہ ہو گی
چوتھے سوال کا جواب بھی بہت آسان ہے میرے خیال میں یہ کسی انسان کو، چاہے وہ کوئی مذہبی عالم ہی کیوں نہ ہوں زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی انسان کے دین کے اوپر فتوہ دیں۔ یہ کام قیامت کے دن اللہ تعالی کا ہے، اللہ تعالی کے معاملات میں بولنے کا حق کسی کو نہیں ہے خود اس نے ہر انسان کو اس دنیا میں موقع دیا ہے کہ وہ کونسا رستہ چنیں اگر کوئی انسان مسلمان نہیں ہے، لیکن اپنے آپ کو، جیسے کہ قادیانی یا بہائی ہیں، مسلمان کہنے پر قاصر ہے تو ہم اس کی تصحیح نہیں کرسکتے۔ اس کو ہدایت صرف اور صرف اللہ تعالی دے سکتا ہے ہم ان کے لیے دعا کرسکتے ہیں جیسے ہم باقی انسانیت کے لئے دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ ان سب کو ہدایت دے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق ان کی مذہبی سوچ اور روش کی وجہ سے پامال کرنا انتہائی غلط بات ہے جب کہ مسلمانوں کو غیر مسلم ممالک برابر حقوق دیتے ہیں۔ تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم کو ان سے بہتر ہونا چاہیے لیکن ہم عملی طور پر ان سے کمتر ہیں۔ آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ اسلامی ریاست کا کام نہیں ہے کہ وہ گناہ کے مواقع روکے ماسوائے اس کے کہ گناہ اور جرم ایک ہوں، مثال کے طور پر قتل کرنا کسی کی آبرو کو نقصان پہنچانا یا چوری ڈکیتی کرنا۔ یہ چیزیں گناہ اور جرم دونوں ہیں لہذا یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان کو روکیں اور سزا دیں۔ لیکن جو چیزیں بس گناہ ہیں مثال کے طور پر شراب پینا یا جیسا کہ مغربی ممالک فہاشی وغیرہ عام ہے، یہ چیزیں گناہ تو ہیں لیکن ان کو طریقے سے معاشرے میں رکھا جا سکتا ہے جیسا کہ مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں عملی طور پر ہو رہا ہے۔ یہاں پر ان کی اپنی عورتیں حجاب اور مرد اسلامی طریقے سے رہتے ہیں لیکن کوئی روک ٹوک نہیں ہے کہ کوئی مسلمان یا غیر مسلم جو چاہے کرے بس قانون کو نہ توڑے۔ شراب کے نشے میں گاڑی چلانا یہاں پر منع ہے، اور بہت سخت سزا ہے، اسی طرح کسی لڑکی کو اس کی مرضی کے بغیر ہاتھ لگانا بہت بڑا جرم ہے
پانچواں سوال بھی بہت صاف ہے اسلام غیر مسلموں اور لادین کو پورا پورا حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں زندگی گزاریں، لیکن ہاں کافر یا غیر مسلم ہوں جیسے قادیانی یا بہائی وغیرہ، ان کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ مسلمانوں کو ان کے طور طریقے پر رہنے سے روکیں
چھٹا سوال، ایک مزحقہ خیز حقیقت ہے، جو مملکت خداداد پاکستان میں عام سوچ پائی جاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کی اگر ریاست گناہوں کے رستے بند کر دے جو گناہ رک جائیں گے۔ یہ ایک انتہائی بیوقوفانہ اور بچگانہ سوچ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ضیاء الحق مرحوم شہید کے زمانے میں بھی شراب اور عیاشی پاکستان میں خاص طبقوں میں عام تھی۔ گناہ روکنا ناممکن ہے کیونکہ شیطان اسی کے فروغ کے لئے دن رات کام کر رہا ہے۔ کوئی بھی ملک اسلامی یا غیر اسلامی شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ شیطان سے مقابلے کا طریقہ مختلف مذاہب میں صاف لکھا ہوا ہے اور وہ انفرادی طور پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ یعنی آپ اپنے آپ کو خود گناہ سے روکیں۔ ریاست آپ کو گناہ سے نہیں روک سکتی۔ یہ آپ کا کام ہے، یہ آپ کی جنت، اور آپکی جہنم کا مسئلہ ہے
ساتواں سوال بھی شیشے کی طرح صاف ہے۔ اسلامی ریاست کبھی بھی ترقی کے برعکس نہیں ہو سکتی، کیونکہ اسلام انسان کو دین اور دنیا دونوں میں کامیابی کی تلقین کرتا ہے۔ ترقی کے بغیر دنیا میں کامیابی ناممکن ہے لہذا اسلامی ریاست کو عام مسلمانوں کو اچھی زندگی اور مالی طور پر کامیابی کے مواقع دینا چاہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کام مغربی اور غیر مسلم ملکوں میں ہو رہا ہے، اور ہم مسلمان زیادہ تر اس کام میں پیچھے یعنی ہمارے پاس نہ دین ہے اور نہ ہی دنیا
اب آپ چند منٹوں کے لئے میرے جوابوں کو نظرانداز کیجئے اور اپنا قیمتی وقت میری برائی کرنے میں ضائع نہ کریں، اور اپنے لئے گناہ کا سامان نہ جمع کربں، بلکہ بذات خود جو سات سوال اوپر لکھے ہیں، جن کے جواب میں نے خود بھی دیے ہیں، انکا آپ اپنی طرف سے جواب دیں۔ یہ مردوں کی اور مسلمانوں کی بات ہوگی۔ اگر اللہ نے آپ کو ہمت، عقل اور دانش دی ہے تو بسم اللہ کیجئے۔ آپکا بھای
عمران اویس کاظمی
 
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s